دموہ 5/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) صوبہ مدھیہ پردیش کے بھوپال سے قریب 250 کلو میٹر دور دموہ سے ایک شرمناک واقعہ منظر عام پر آیا ہے جس میں میٹرک کی دو طالبات نے الزام لگایا ہے کہ ٹیچر نے اُن کے کپڑے صرف اس شک پر اُتارا کہ انہوں نے 70 روپئے چوری کئے ہیں۔ شیوراج سنگھ کی حکومت والے مدھیہ پردیش کے اس واقعہ کے انکشاف کے ساتھ ہی انتظامیہ حرکت میں آگئی ہے اور اس نے جانچ شروع کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ رانی درگاوتی گرلس سینئر سکینڈری سکول میں دسویں کی ایک طالبہ نے اپنے 70 روپے چوری ہوجانے کی شکایت کی ، جس کے بعد ٹیچر جیوتی گپتا نے بیگ وغیرہ کی تلاشی لی ، مگر اس کو کچھ نہیں ملا ۔ طالبات کا کہنا ہے کہ ٹیچر نے تلاشی کے نام پر ان کے سبھی کپڑے بھی اتروا دئے ۔ علاوہ ازیں حقیقت کا پتہ لگانے کیلئے جادو ٹونا کا بھی سہارا لیا گیا ۔ تاہم ٹیچر نے ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔
اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ ان کی ٹیچر جیوتی گپتا نے پہلے ان کی بیگ کی تلاشی لی، جب کچھ نہیں ملا تو دھمکی دی کہ وہ ایک تانترک کو بلاکر سچ اگلوائے گی۔ میں نے ٹیچر سے کہا کہ ہم نے رقم نہیں چرائی ہے، اگر وہ تانترک کے ذریعے جانچ کرانا چاہتی ہے تو بھلے کرائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، مگر اتنا کہنے کے بائوجود ٹیچر نے کلاس میں طالبات کے سامنے ہی ہمارے کپڑے اُتروادئے۔ طالبہ نے مزید بتایا کہ کپڑے اُتروانے کے بائوجود بھی ٹیچر کو پیسے نہیں ملے۔
واقعے کے فوری بعد طالبات نے اپنے اپنے والدین کو واقعے کی جانکاری دی، جنہوں نے اسکول کے اعلیٰ حکام تک بات پہنچائی۔
ضلع کے محکمہ تعلیم کے آفسر پی پی سنگھ نے اخبارنویسوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں اس واقعے کا علم جمعہ کی شام کو ہوا اور انہوں نے اطلاع ملتے ہی اسکول ٹیچر جیوتی گپتا کو وجہ بتائو نوٹس جاری کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر واقعی الزام سچ ثابت ہوتا ہے تو ٹیچر کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ آگے بتایا کہ کسی کو بھی اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ کسی کے زبردستی کپڑے اُتروائیں۔ مزید بتایا کہ طالبات کی شکایت اور ٹیچر کا موقف سامنے آنے کے بعد دو خواتین افسروں کے ذریعہ اس معاملہ کی جانچ کرائی جائے گی۔